105

معرکہ عین جالوت جب سیف الدین اور ہلاکو خان آمنے سامنے تھے

25 رمضان المبارک کی مناسبت سے معرکہ عین جالوت۔۔
ہلاکو خان بمقابلہ سیف الدین قطز ۔
(ترک بمقابلہ منگول)
معرکہ عین جالوت ۔۔ 657ھ-60 -1259ء۔۔
ہلاکوخان کے جانے کے بعد کتبغا خان نویان تاتاریوں اور مغلوں کا لشکر لے کر عین جالوت کے میدان پہنچا جنگ کا میدان ایک چھوٹی سے وادی نما تھی دو طرف پہاڑ تھے ۔ دوسری طرف سیف الدین قطز کا سپہ سالار رکن الدین بیبرس بندقداری اور جمال الدین اقوش شمسی تھے ۔
رمضان المبارک کو دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں ۔ منگولوں کی فوج مسلمانوں سے تین گناہ زیادہ تھی ۔
کتبغا خان کیساتھ حمص کے حکمران اشرف اور ضبینہ کا حکمران سعید بن عزیز تھا یہ دنوں منگولوں کیساتھ مل کر مسلمانوں کیخلاف تھے ۔ جب سلطان مظفر سیف الدین قطز کو پتا چلا کہ مسلمان حکمران انکے ساتھ ہیں تو ان کو اپنی حمایت اور مسلمانوں کے ساتھ دینے کا پیغام بھجوایا اور یہ بھی کہا کہ کفار کیساتھ ملکر مسلمانوں کا خون ناحق کرنے سے گریز کریں۔ سلطان سیف الدین قطز تاتاریوں سے پرانا حساب لینا تھا انہی تاتاریوں اور مغلوں نے انکے پورے خاندان کو تباہ کردیا انکی عورتوں کو غلام بنا کر اکتائی خان کے پاس بھیج دیا گیا تھا ۔ سیف الدین قطز بدلے کی آگ میں جل رہے تھے۔۔
25 رمضان المبارک بروز جمعہ عین جالوت کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں ۔ پہلے تاتاریوں نے حملہ کہا سیف الدین قطز نے رکن الدین بیبرس بندقداری کو لشکر دے کر روانہ کیا رکن الدین بیبرس کسی بھوکے شیر کی طرح ان تاتاریوں پر حملہ آور ہوئے دوسری جانب ایک لشکر جمال الدین اقوش شمسی کیساتھ بھیجا اور ایک لشکر ان سے آگے چھپا رکھا تھا۔ گھمسان کی جنگ شروع ہوئی سیف الدین قطز باربار آسمان کی جانب نظر اٹھاتے اور فتح کے لیے دعا کرتے دیکھتے ہی دیکھتے رکن الدین بیبرس بندقداری اور لشکر نے تاتاریوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ تاتاری اتنے خوف زدہ ہوگئے کہ میدان جنگ سے فرار ہونے کی کوشش کی ۔ اشرف نے اس جنگ میں سیف الدین قطز کا ساتھ دیا جبکہ سعید بن عزیز نے غداری کرکے تاتاریوں کا ساتھ دیا ۔ رکن الدین بیبرس نے لشکر کیساتھ تاتاریوں اور مغلوں کا تعاقب کرکے انہیں ہر جگہ قتل کرنے لگے ۔ حتیٰ کہ انکے پیچھے پیچھے حلب تک پہنچ گئے۔ یہاں بیبرس کا لشکر اس سے الگ ہوگیا لہذا ایک تازہ دم تاتاریوں کا لشکر ان پر حملہ آور ہوا جس میں انہیں قیدی بنا لیا۔ دوسری جانب مسلمانوں نے عین جالوت میں تمام تاتاریوں اور مغلوں کو قتل کردیا ۔ غدار سعید بن عزیز گرفتار ہوگیا سلطان سیف الدین قطز نے اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کردیا ۔
دوسری جانب جمال الدین اقوش شمسی نے کتبغا خان کو گرفتار کرلیا کتبغا نے مزاحمت کی امیر جمال الدین اقوش شمسی نے اسے قتل کردیا دوسری جانب رکن الدین بیبرس قید میں تھے کہ اچانک مسلمانوں کا ایک بڑا لشکر وہاں پہنچا اور تاتاریوں کو تہہ تیغ کر ڈالا اسکے بعد رکن الدین بیبرس بندقداری وہاں سے نکلے اور جہاں جہاں تاتاری مغل ملتے انہیں قتل کر دیتے ۔۔ سیف الدین قطز نے جب تاتاریوں کو شکست دی تو انکے پیچھے پیچھے دمشق میں بڑی شان و شوکت سے داخل ہوگیا دمشق کے لوگوں جب معلوم ہوا کہ مسلمانوں نے تاتاریوں کو شکست دی اور وہ انکے پیچھے اسی طرف آرہے ہیں تو ان مسلمانوں میں بھی جذبہ پیدا ہوا اور جن جن تاتاریوں پر موقع ملتا انہیں قتل کر دیتے ۔ سلطان سیف الدین قطز شاہانہ انداز میں دمشق داخل ہوئے اشرف کو حمص کا حکمران بنایا ۔ دوسری جانب رکن الدین بیبرس بندقداری بھی دمشق میں سیف الدین قطز سے آ ملا سیف الدین قطز نے حلب ہلاکو خان سے واپس لے لیا اور اسے اصلی حالت میں بحال کردیا ۔ سیف الدین قطز نے رکن الدین بیبرس بندقداری کو حلب بھیجا اور کہا کہ تاتاریوں کو حلب سے نکال باہر کرے اور اسکی سپہ داری لے لی۔ اس طرح سلطان سیف الدین قطز نے شام کو ہلاکو خان سے نجات دلادی ۔ ہلاکو خان واپس ہمدان کی طرف لشکر لے کر روانہ ہوا۔۔۔ یاد رہے کہ سیف الدین قطز ایغور ترک اور علاؤ الدین خوارزم شاہ کا نواسہ اور جلال الدین خوارزم کا بھانجا تھا جسے غلام بنا کر شام میں فروخت کیا گیا تھا الصالح نجم الدین ایوب نے انہیں خرید کر مصر میں بسایا انہی کیساتھ سلطان بیبرس بھی تھے جنہیں قفچاق میں چوچی خان کی فوج نے غلام بناکر شام میں فروخت کردیا تھا ۔۔۔جس کے بعد مصر میں مملوک ترکوں کی سلطنت قائم ہوئی۔۔۔
محمد رفیق مینگل۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں