112

مسلمانوں کا دوسرا بڑا قبرستان

مسلمانوں کا دوسرا سب سے بڑا قبرستان۔ مکلی

کچھ لوگوں کے نزدیک مکلی کا قبرستان دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ اور اکثر کی رائے میں وادی السلام (نجف عراق ) کے قبرستان کے بعد اس قبرستان کا نمبر آتا ہے۔ وادی السلام میں انبیاء و اولیاء کی قبریں بھی موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں تقریبا پچاس لاکھ لوگ مدفون ہیں۔ اس پر بھی ان شاء اللہ جلد ایک پوسٹ کروں گا۔ فی الحال آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو مکلی کے قبرستان کے بارے میں کچھ معلومات دیتے ہیں۔

مکلی! ٹھٹھہ ، سندھ کے قریب واقع ایک چھوٹا سا علاقہ جو تاریخی قبرستان کے حوالے سے دنیا بھرمیں مشہور ہے ۔ یہاں سندھ کے سابق حکمرانوں کی قبریں ہیں۔ یہ قبرستان چھ مربع میل سے زائد رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سے ماضی کی چار سو سال پرانی ایک عظیم تہذیب وابستہ ہے۔ اس میں چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک کے مقبرے اور قبریں موجود ہیں۔

اس کے نام کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ یہاں پر جو پہلی قبر تعمیر ہوئی وہ ایک عورت کی تھی اور وہ علاقے میں مکلی کے نام سے معروف تھی۔ وہ کون تھی۔ کس طبقہ سے تعلق رکھتی تھی کس سماجی رتبے کی حامل تھی اس بارے میں تاریخ بالکل خاموش ہے۔ اسی عورت کے نام سے قبرستان مشہور ہوا۔

جب کہ اس کے نام کی دوسری وجہ شہرت بھی ہے۔ جو کہ معروف سندھی مورخ حسام الدین راشدی نے بیان کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ ایک بار کسی بزرگ نے مکلی پہاڑی پر رات بھر قیام و عبادت میں گزارا اور وہیں سو گئے۔ رات خواب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی تجلیات کے نظارے کروائے۔صبح جب وہ بیدار ہوئے تو بے اختیار پکار اٹھے۔’’ہذا مکرلی‘‘۔ یہ بات ان کی اس دور میں مشہور ہوگئی۔ اور لوگ اس جگہ کو مکرلی پکارنے لگ پڑھے جو بعد میں زبان کے لہجے کی وجہ سے تبدیل ہوکر مکلی کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جبکہ بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق بعدازاں اس بزرگ نے یہاں کے بادشاہ کو یہ جگہ آباد کرنے کا مشورہ دیا جس کے بعد یہاں پر قبرستان بنا دیا گیا۔

مکلی محض ایک قبرستان نہیں بلکہ اپنے عہد کا جیتا جاگتا تاریخی ہنرمندی کا ثبوت ہے قبروں اور مقبروں کی عمدہ نقش نگاری، بے مثال خطاطی اور اعلیٰ کندہ کاری اپنی مثال آپ ہے مکلی قبرستان کی ہر قبر اور ہر مقبرہ جاذب نظر اور خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس قبرستان میں اندازاً چھ لاکھ سے زائد قبریں موجود ہیں۔ ان میں ایک لاکھ سے زائد اولیاء کرام 33 بادشاہ اور 17 گورنر مدفون ہیں۔

یہاں موجود قبریں تاریخی اعتبار سے دو ادوار میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ پہلا سما بادشاہوں کا دور جوکہ (1520 – 1352) تک رہا اور دوسرا ترکان بادشاہوں کا دور جو کہ (1592 – 1556) تک رہا۔ ان عمارتوں کے ڈھانچے نہایت مضبوط، طرزِ تعمیر نہایت عمدہ اور تعمیری مواد بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے۔

ان مقابر میں مغل سردار طغرل بیگ، جانی بیگ، جان بابا، باقی بیگ ترخان،سلطان ابراہیم اور ترخان اول جیسے علماء،سردار اور دیگر لوگ سالوں سے محو خواب ہیں۔ یہ مسلم دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے جو تقریباًچھ مربع میل پر محیط ہے۔اس قبرستان میں مغل،ترخان اور سمہ دور کی قبریں موجود ہیں ۔ ان مقابر پر انتہائی نفیس انداز میں قرآنی آیات اور خوبصورت نقش و نگار کندہ ہیں۔وہ قبریں جو کسی سردار یا کسی بزرگ کی ہیں ان پر خوبصورت مقبرے تعمیر ہیں۔مقابرکی تعمیر میں سندھی ٹائلوں اور سرخ اینٹوں کا استعمال ہواہے۔مزارات میں سرخ اینٹوں سے گنبدبھی بنائے گئے ہیں۔ قبروں کے تعویز اور ستونوں پر اتنا خوبصورت کام کیا گیا ہے کہ دیکھنے والا کاریگروں کی صناعی کی داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اس قبرستان کی اہم بات یہ بھی ہے کہ یہاں دن یا رات کے کسی بھی حصے میں ویرانی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ ہر وقت رونق کا سا سماں ہوتا ہے۔ یورپین سیاحوں نے ٹھٹھہ کے اس قبرستان کی خوبصورتی اور دلکشی سے متاثر ہو کر اسے ایلڈ راڈو کا نام دیا ہے جس کا مطلب خوابوں کی ایک ایسی دنیا ہے جو خزانوں سے مالا مال ہے لیکن وہاں لالچ حرص اور طمع نہیں ہے۔ اب تو مقامی لوگ بھی اپنے مردوں کو مکلی کے قبرستان میں دفناتے ہیں جس کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں