50

عجیب و دلچسپ مقابلے کےلئے خون اور دودھ کا محلول پینے کی رسم

عجیب و دلچسپ مقابلے کے لیے خون اور دودھ کا محلول پینے کی رسم
ہم خود کو دبلا پتلا اور اسمارٹ رکھنے کے لیے لاکھ جتن کرتے ہیں، خاص طور پر ہم اپنی توند کے دشمن بنے رہتے ہیں کہ کسی طرح اس سے چھٹکارا پایا جاسکے۔

لیکن دنیا میں ایک قوم ایسی بھی ہے جو اسی پیٹ کو اپنا فخر مانتی ہے۔

دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے عقائد، عجیب روایت اور رسم و رواج کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔

زندگی کے ارتقاء کے باعث ویسے تو ان روایات اور رسومات میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن آج بھی جنگلوں اور پسماندہ علاقوں میں ایسے قبائل موجود ہیں جو پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہیں۔

آج ہم آپ کو ایسی ہی ایک عجیب و غریب روایت کے بارے میں بتانے جارہے ہیں جس کی پیروی افریقہ کا ایک قبیلہ کرتا ہے۔

یہاں کے لوگ گائے کے دودھ کے ساتھ خون بھی پیتے ہیں تاکہ موٹے ہو سکیں۔

ایک طرف جہاں دنیا کے لوگ دبلا پتلا ہونے کے لیے سخت محنت کرتے ہیں اور سکس پیک ایبس بنا کر اسمارٹ نظر آنا چاہتے ہیں، وہیں دوسری جانب افریقہ کے اس قبیلے کے مرد موٹاپے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور توند بڑھانے کے پیچھے پاگل رہتے ہیں۔

اس قبیلے کے موٹے مردوں کو سپر اسٹار جیسا درجہ ملتا ہے۔

اس قبیلے کا نام “بوڈی قبیلہ” ہے جو افریقہ کے ایتھوپیا میں پایا جاتا ہے۔

یہ قبیلہ ایتھوپیا کی وادی اومو کے اندرونی حصے میں رہتا ہے۔

یہاں ایک بہت ہی عجیب عقیدے کی پیروی کی جاتی ہے۔ یہاں کے نوجوان گائے کا خون اور دودھ ملا کر پیتے ہیں تاکہ وہ موٹے ہو جائیں۔

خون پینے کے لیے وہ گائے کو مارتے نہیں ہیں بلکہ ان کے جسم کی ایک رگ کاٹ کر اس کا خون اس گائے کے دودھ میں ملا کر پیتے ہیں۔

یہاں جو مرد زیادہ پیٹ پالتے ہیں، انہیں پورے قبیلے کا ہیرو مانا جاتا ہے۔

اس حوالے سے نئے سال پر خصوصی جشن منایا جاتا ہے۔ یہاں نئے سال پر “کیل” نام کی تقریب ہوتی ہے۔

یہ مردوں کے درمیان مقابلے کی طرح ہے جس میں غیر شادی شدہ مردوں کو خون اور دودھ کا گھول پینا پڑتا ہے۔

مقابلے میں کھڑے ہونے کے لیے وہ 6 ماہ پہلے سے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔

اس 6 ماہ میں وہ نہ تو کسی عورت سے رشتہ بنا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جھونپڑی سے باہر نکل سکتے ہیں۔

اس دوران وہ خون اور دودھ پیتے رہتے ہیں۔ پہلا کپ 2 لیٹر کا ہے جو طلوع آفتاب کے وقت پیا جاتا ہے۔ باقی کپ دن بھر پیا جا سکتا ہے۔

مقابلے کے دن وہ اپنے جسم کو راکھ اور مٹی سے ڈھانپ کر پورے گاؤں کے سامنے اپنا موٹا جسم دکھاتے ہیں اور چھلانگ لگا کر اپنی بالادستی قائم کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ مقدس درختوں کے بھی گھنٹوں چکر لگتے ہیں۔

دریں اثنا، بزرگ فیصلہ کرتے ہیں کہ مردوں میں سے کون سب سے اوپر ہے اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

پھر وہ گائے کی قربانی کرتے ہیں اور اس کی آنت سے اندازہ لگاتے ہیں کہ آنے والا سال کیسا رہے گا۔

جیتنے والے کو گاؤں کا سب سے موٹا آدمی سمجھ کر سال بھر اس کی تعریف کی جاتی ہے۔
اگر آپکو میری پوسٹ پسند ائی ہے تو مزید دلچسپ معلومات کے لیے مجھے فرینڈ ریکویسٹ بھیج دیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں