55

سائنس فکشن فلیں کیوں بنائی جاتی ہیں

سائنس فکشن فلمیں کیوں بنائی جاتی ہیں؟
حالانکہ ان میں دکھایا جانے والا مواد ناقابل یقین اور ناممکن سا نظر آتا ہے

جب اعلیٰ درجے کی سائنس فکشن فلمیں تخلیق کی جاتی ہیں تو پروڈیوسرز اور ڈائریکٹز دنیا کے چوٹی کے سائنس دانوں کو فلم کی مشاورت کے لیے ملازم رکھتے ہیں، انہیں بہترین مشاہرہ دیا جاتا ہے اور فلم کے ہر پہلو پر سائنس دانوں کے مشورے قبول کیے جاتے ہیں تاکہ سائنس کو درست انداز میں پیش کیا جائے- یہاں تک کہ کامک ہیروز پر بنائی جانے والی اعلی کوالٹی کی فلموں میں بھی سائنس دانوں سے مشاورت کی جاتی ہے تاکہ جہاں تک پلاٹ اجازت دے وہاں تک درست فزکس دکھائی جا سکے- مثال کے طور پر ‘تھور’ (Thor) یونانی دیومالائی کردار ہے اور کامک کیریکٹر بھی ہے جو Marvel کمپنی کی کامک بکس میں دیکھا جا سکتا ہے- جب مارول کمپنی نے تھور پر فلم بنانے کا ارادہ کیا تو دنیا کے بہترین کاسمالوجسٹ شان کیرول کو مشاورت کے لیے منتخب کیا- جب کارل سیگن اپنی فلم Contact پر کام کر رہے تھے تو انہوں نے ماہر طبیعات کپ تھورن کو مشاورت کے لیے چنا تھا- کپ تھورن نوبیل انعام یافتہ فزسسٹ ہیں- اسی طرح Gravity ، The Martian Man اور Interstellar کے بنانے کے دوران بہترین فزسسٹس کو مشاورت کے لیے چنا گیا تھا- اس وجہ سے اسی اعلی کوالٹی کی فلموں میں سائنس کو کم و بیش درست دکھایا جاتا ہے- ایسی فلموں میں جب مستقبل کی ایجادات دکھائی جاتی ہیں تو وہ ایسی ہوتی ہیں جو سائنس کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہوتیں- ان میں اکثر ایجادات ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں سائنس دان speculate کر چکے ہوتے ہیں یعنی اصولاً ایسی ایجادات ممکن ہیں اگرچہ آج کی ٹیکنالوجی سے انہیں بنانا ممکن نہیں ہے-

لیکن بی گریڈ سائنس فکشن فلموں میں یا بالی ووڈ اور خصوصاً تامل فلموں میں جو سائنس دکھائی جاتی ہے وہ صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لیے دکھائی جاتی ہے جس میں ہیرو ایک کچے کیلے سے بھی ولن کا گلا کاٹ سکتا ہے، پستول سے چلائی گولی کو دانتوں سے پکڑ سکتا ہے وغیرہ- ایسی فلموں میں سائنس کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے اس کے لیے جو الفاظ درکار ہیں وہ اس فورم کے لیے موزوں نہیں ہیں…

تحرير قدير قريشى

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں