63

دنیا کا کم عمر ترین جوہری سائنسدان

دنیا کا کم عمر ترین جوہری سائنسدان
’’وہ کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ بس ایک بار اگر وہ کوئی کام کرنے کی ٹھان لیتا ہے تو اُس پر خبط سوار ہوجاتا ہے، اس کام کو مکمل کرنے کا! حتٰی کہ اسے کھانے پینے کے لیے آمادہ کرنا بھی ہمارے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔‘‘ یہ کہانی ہے ایک نوجوان سائنس دان کی جس نے اپنے اسکول کے دور میں بیالوجی، جینیٹکس ، کمیسٹری اور فزکس کے مضامین با آسانی پاس کیے اور چھوٹی سی عمر میں اسے جوہری سائنس سے اس قدر لگاؤ ہوگیا کہ اس نے صرف 11برس کی عمر میں پارٹیکل ایکسیلیٹر نامی ڈیوائس بنانے کی کوشش شروع کردی تھی۔

اس نوجوان کا نام ہے ٹیلر ولسن۔ ٹیلر صرف 14برس کی عمر میں جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے نیوکلیر فیوژن کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر ترین سائنس دان کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ٹیلر 19برس کا ہو چکا ہے اور اب وہ جوہری سائنس کے ذریعے کینسر، نیوکلیئر دہشت گردی اور توانائی جیسے مسائل کے حل کی کوششوں میں سر گرداں ہے۔

دنیا بھر میں نت نئے آئیڈیاز کے ذریعے مثبت سوچ کی جانب راغب کرنے اور اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے کام کرنے والے عالمی شہرت یافتہ فورم ٹیڈ کے مشہور سلسلے ٹیڈ ٹاک میں بھی ٹیلر اپنی زندگی اور جنون سے متعلق گفتگو کرچکا ہے۔ ٹیلر اس سلسلے میں پریزینٹیشن دینے والے کم عمر ترین افراد میں شامل ہے۔ جب ٹیلر سے پوچھا گیا کہ اتنے بڑے فورم میں اظہار خیال کرنے کے لیے اس نے کس طرح تیاری کی تو اس نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا:’’گزشتہ برس یہ میرے لیے پہلا موقع تھا، میں نے کچھ تیاری بھی کی لیکن جب لوگوں سے بات کرنا ہو تو میں ہمیشہ تیار ہوتا ہوں۔ اس برس مجھے دوبارہ اس فورم پر اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ شئیر کرنے کے موقع ملا یہ یقیناً پہلے تجربے کی طرح انتہائی دلچسپ اور خوش کُن تجربہ تھا۔‘‘

عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سائنس سے شغف رکھنے والے افراد تنہائی پسند ہوتے ہیں، وہ اپنے دلچسپی کے موضوعات میں اس قدر گم رہتے ہیں کہ انھیں کچھ اور سوجھتا ہی نہیں اس لیے انھیں دوسروں سے بات کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مضامین سے بالواسطہ طور پر متعلق ایسے موضوعات پر بھی بات کرنے میں مہارت کا مظاہرہ نہیں کر پاتے جو دنیا بھر میں زیر بحث ہوتے ہیں مثلاً ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات وغیرہ۔ لیکن اس کے بر خلاف ٹیلر ایک ملنسار نوجوان ہیں۔ وہ اپنے ذاتی تجربات، مشاہدات اور اپنی سائنسی سرگرمیوں کے حوالے سے نہ صرف با آسانی بات کرتا ہے بلکہ انھیں زندگی سے مربوط کرنے کا فن بھی بہ خوبی جانتا ہے۔ اس سے ملنے والے اپنے فن کے ماہرین کا کہنا بھی یہی ہے کہ ٹیلر ایک انتہائی باصلاحیت نوجوان ہے جو کسی بھی چیز کو اپنے لیے مشکل تصور نہیں کرتا۔

ٹیلر جب پانچویں جماعت میں تھا تو اس نے ’’دی ریڈیو ایکٹیوو بوائے اسکاؤٹ‘‘ نامی ایک کتاب پڑھی جس میں ایک نوجوان کی کہانی بیان کی گئی تھی جو نوے کی دہائی کے وسط میں اپنے گھر کے گیراج میں تجربات کا شوقین ہوتا ہے اور ایک نیوکلیئر ری ایکٹر بنانے کی کوشش کرتا ہے جس میں اسے کامیابی بھی حاصل ہوجاتی ہے۔

ٹیلر کا کہنا ہے٬’’ نیوکلیئر ری ایکٹر جیسی بڑی چیز کا تصور کرتے ہی ہمارے ذہن میں آتا ہے کہ اسے بنانے کی صلاحیت کے لیے پہلے آپ کو بڑی بڑی لیبارٹریوں میں تجربات کرنے ہوں گے۔ اس کام کے لیے بے پناہ تحقیق ، اعلیٰ تعلیم اور کثیر سرمائے کی ضرورت ہوگی لیکن یہ کہانی پڑھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اگر ایک بچہ پورے انہماک کے ساتھ اگر اپنے گھر میں رہتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کرسکتا ہے میں بھی اس کی کوشش کرسکتا ہے۔ لیکن اس کہانی کا بوائے اسکاؤٹ کچھ غلطیاں کرتا ہے اور میں ایک ذمے دار بوائے اسکاؤٹ بننا چاہتا تھا۔‘‘

ٹیلر کے اس شوق سے اس کے والدین بہت پریشان تھے۔ انھیں خوف تھا کہ کہیں ان کا بیٹا چھوٹی سی عمر میں خطرناک تجربات کرنا شروع نہ کردے، جس میں تابکاری کے اثرات کا خطرہ ہر وقت رہتا ہے۔ لیکن اسکول اساتذہ کی زیر سرپرستی نیوکلیئر سائنس سے متعلق ابتدائی تعلیم اور تجربات سے جہاں ٹیلر کے شوق کی تسکین بھی ہوگئی وہیں اس کے والدین کے خدشات بھی رفع ہوگئے۔

جب ٹیلر کی عمر صرف 11برس تھی تو اسے ایک دن خبر ملی کہ اس کی نانی کو کینسر ہوگیا ہے۔ ٹیلر نے اس چھوٹی سی عمر میں اس بات پر غوروفکر شروع کردیا تھا کہ کیوں اس مرض کی تشخیص اور علاج کے لیے بھاری بھرکم ری ایکٹرز کی مدد لی جاتی ہے جبکہ اس کے لیے چھوٹے میڈیکل آئسوٹوپس بنائے جاسکتے ہیں جن تک رسائی بھی آسان ہوگی، ان پر آنے والی لاگت بھی بڑے ری ایکٹرز کے مقابلے میں کئی کم ہوگی اور ساتھ ہی یہ ہر گھر اور اسپتال تک بھی بہ آسانی پہنچائے جاسکتے ہیں۔ بس اسی بات نے اسے مسلسل جوہری سائنس پر تجربات اور تحقیق کے لیے آمادہ کیا۔

چھوٹی سطح پر ایسے ری ایکٹر بنانے کے لیے حکومتیں بڑی بڑی تجربہ گاہیں بناتی ہیں اور اس پر کثیر سرمایہ خرچ کرتی ہیں لیکن اس ننھے سائنسدان نے اپنے گھر میں چھوٹے ری ایکٹر کا نمونہ قدرے کامیابی سے بنا لیا۔ ٹیلر نیوکلیری سائنس، پلازما فزکس، کیمسٹری، ریڈی ایشن میٹرلجی اور الیکٹرک انجینییرنگ سمیت 20مختلف سائنسی مضامین میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلر جوہری سائنس سے متعلق کئی بڑے تجربات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ جوہری سائنس ٹیلر کا شوق اور جنون ہے جس میں اسے اپنے والدین کا پورا تعاون حاصل ہے۔ وہ اس کی تجربہ گاہ کے لیے آلات اور سامان خریدنے کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں اس کے لیے بڑے بڑے پروفیسروں اور اساتذہ سے ملاقات اور تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں۔

ٹیلر کا تعلق نیواڈا سے اور ہائی اسکول جانے کی عمر میں اس کے مختلف تجربات کے معاونین میں نیواڈا یونیورسٹی کے پروفیسر اور ماہرین بھی شامل ہیں۔ ٹیلر گذشتہ چار برس کے عرصے میں درجنوں ایوارڈ حاصل کرچکا ہے اور نیوکلیر فیوژن کے لیے اس کے میڈیکل اور جوہری ہتھیاروں کی چھان بین کے لیے آئسوٹوپ کے آئیڈیا کو بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی اس کم عمری میں ٹیلر کی کامیابیوں پر نہ صرف حیران ہیں بلکہ اس پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ حال ہی میں انٹیل کے سی ای او پال اوٹیلینی نے ٹیلر سے ملاقات کی ان کا کہنا تھا’’جب میں نے یہ خبر سنی کے ایک 14برس کے لڑکے نے نیوکلئیر فیوژن ری ایکٹر بنا لیا ہے تو میں سیدھا اس سے ملنے گیا، اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ایسا ٹیلنٹ ہمارے پاس ہے۔‘‘ 2012میں ٹیلر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا گیا اور ایک لاکھ ڈالر کا وظیفہ بھی دیا گیا۔ امریکی حکومت کی جانب سے 19سال تک کی عمر کے ایسے طالب علموں کے لیے خصوصی اسکالر شپز کا اہتمام کیا جاتا ہے جو سائنسی تجربات کے ذریعے مختلف ایجادات کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ٹیلر کو ایسی تمام تر سہولتیں بھی فراہم کرنے کے اعلان کیا گیا جن کی مدد سے وہ اپنی ایجادات کو باقاعدہ بزنس کمپنی کے ذریعے منافع بخش کاروبار کا مالک بھی بن سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں ٹیلر سے ہونے والے ایک انٹرویو میں یہ سوال کیا گیا کہ اب تو آپ بڑے ہوتے جارہے ہیں، سائنس بچپن کا شوق تھا، کیا بڑھتی عمر کے ساتھ میں اس میں کمی تو نہیں آئی؟ اس سوال پر ٹیلر کا جواب تھا:’’میں اپنی پوری زندگی سائنس کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔ جب میں چھوٹا تھا تو سائنس میں میری دلچسپی صرف نئی نئی چیزیں جاننے کے جذبے کے تحت تھی۔ پھر مسلسل محنت سے میں اس میں زیادہ قابلیت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا اور یہ میرے لیے شوق سے زیادہ ذمے داری کا درجہ حاصل کرگئی۔ لیکن یہ سب چیزیں صرف اپنی ذات کے لیے تھیں۔ مجھے اب اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ میری صلاحیتیں صرف میرے شوق کی تسکین کے لیے نہیں ہیں، مجھے انھیں دنیا کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ میں کام تو اب بھی وہی کررہا ہوں جو بچپن سے کرتا آرہا تھا، لیکن اب اس کے مقاصد بہت بڑے ہوچکے ہیں۔ مجھے اب بھی اپنا کام کرنے میں مزہ آتا ہے لیکن اب اس کے ساتھ ساتھ بھاری احساس ذمے داری بھی ہے۔‘‘

نوجوانوں کے لیے ٹیلر کا ایک ہی پیغام ہے:’’میرے خیال میں بچپن میں آپ کے پاس ایجادات کرنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں، زیادہ سوچنے کا وقت ہوتا ہے اور اگر کچھ خراب ہو بھی جائے تو اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔ چھوٹی عمر کی ناتجربے کاری کے کئی فوائد ہیں کیوں کہ اس عمر میں آپ اپنی کوتاہیوں سے مایوس ہونے کے بہ جائے کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں کم عمر سائنس دان آزادی اور بے باکی سے تجربات کرسکتے ہیں، ان کا دماغ بند نہیں ہوتا، وہ اپنے تجربات کے اسیر نہیں ہوتے اور یہ وہ خوبی ہے جو بڑے بڑے سائنس دانوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ اس لیے میں کبھی زیادہ بڑا نہیں ہونا چاہتا۔ کیون کہ روایت پسندی سے مثبت انداز میں دوری اور غوروفکر میں حدود وقیود سے مثبت انحراف کرکے ہی آپ کوئی بڑا کام کرسکتے ہیں۔ تم کیا کرسکتے ہو اور کیا نہیں کرسکتے کے سانچوںمیں بٹی زندگی گزارنے والے کچھ بڑا نہیں کرپاتے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرا جذبہ یوںہی قائم رہے اور میں اسے کبھی کھونا نہیں چاہتا۔ ‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں